منی پور میں کشیدگی میں اضافہ: بم دھماکے کے بعد عوام اور سیکیورٹی فورسز آمنے سامنے
نئی دہلی (بی این پی آن لائن) — بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جہاں حالیہ بم حملے میں دو معصوم بچوں کی ہلاکت نے حالات کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے نتیجے میں عوام اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ریاست میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کے مبینہ انتہاپسندانہ اقدامات اور سیکیورٹی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جن کا مقصد نہ صرف حالیہ واقعے کے خلاف آواز بلند کرنا تھا بلکہ مجموعی حالاتِ زندگی اور سیکیورٹی اقدامات پر بھی سوال اٹھانا تھا۔
مظاہرین کی ایک بڑی ریلی کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے مداخلت کی، جس کے دوران حالات مزید بگڑ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے، جس کے ردعمل میں مظاہرین نے شدید پتھراؤ کیا۔ یہ جھڑپیں دیکھتے ہی دیکھتے وسیع پیمانے پر پھیل گئیں اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، منی پور میں جاری کشیدگی نہ صرف مقامی سطح پر امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے بلکہ یہ بھارت کے اندرونی استحکام کے حوالے سے بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم عوامی حلقے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔



0 Comments